صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(339) بَابُ اسْتِحْبَابِ طَوَافِ الزِّيَارَةِ يَوْمَ النَّحْرِ اسْتِنَانًا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُبَادَرَةً بِقَضَاءِ الْوَاجِبِ عَنِ الطَّوَافِ باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کی تعمیل میں طواف زیارہ یوم النحر دس ذوالحجہ ہی کو کرنا مستحب ہے ۔
الَّذِي بِهِ يَتِمُّ حَجُّ الْحَاجِّ؛ خَوْفَ أَنْ يَعْرِضَ لِلْمَرْءِ مَا لَا يُمْكِنُهُ طَوَافُ الزِّيَارَةِ مَعَهُ، وَإِنْ كَانَ تَأْخِيرُ الْإِفَاضَةِ عَنْ يَوْمِ النَّحْرِ جَائِزًا.چونکہ طواف زیارت واجب ہے اور اسی کے ساتھ حاجی کا حج مکمّل ہوتا ہے اس لئے اسے ادا کرنے میں جلدی کرنی چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی رکاوٹ کے پیش آجانے سے حاجی طواف زیارہ ہی نہ کرسکے اگرچہ طواف زیارہ دس ذوالحجہ سے موَخر کرنا جائز ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى " قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ يَعْنِي بِمِنًى ، وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُسیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر واپس آکر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی ۔ امام نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما قربانی والے دن طواف افاضہ کر لیتے تھے ۔ پھر واپس آ کر منیٰ میں ظہر کی نماز پڑھتے تھے ، اور آپ بتاتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا ۔