حدیث نمبر: 2933
ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ التَّطَيُّبَ مَحْظُورٌ حَتَّى يَزُورَ الْبَيْتَ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

اس شخص کے قول کے بر خلاف جو کہتا ہے کہ طواف افاضہ سے پہلے خوشبو لگانا منع ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ وَبَسَطَتْ يَدَهَا : " أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِيَّ هَاتَيْنِ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر فرمایا کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں کے ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی جب آپ نے احرام باندھا اُس وقت بھی اور طواف افاضہ کرنے سے پہلے آپ کے احرام کھولنے کے وقت بھی ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2933
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔