صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(330) بَابُ حَلْقِ الرَّأْسِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ النَّحْرِ أَوِ الذَّبْحِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّيَامُنِ فِي الْحَلْقِ، باب: اونٹ نحر کرنے یا کوئی دوسرا جانور ذبح کرنے کے بعد سر منڈوانے کا بیان اور سر منڈواتے وقت دائیں جانب سے شروع کرنا مستحب ہے ۔
مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ شَعْرَ بَنِي آدَمَ لَيْسَ بِنَجَسٍ بَعْدَ الْحَلْقِ أَوِ التَّقْصِيرِ.اس بات کی دلیل کا ساتھ کہ سر منڈوانے یا بال کتروانے کے بعد انسان کے بال نجس نہیں ہوتے
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ نَاوَلَ الْحَلاقَ شِقَّهُ الأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بَيْنَ النَّاسِ " سیدنا انس بن مالک صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ پر رمی کرلی اور اپنا اونٹ نحر کرلیا تو آپ نے حجام کو اپنے سر کے دائیں جانب والے بال دیئے تو اُس نے وہ مونڈھ دیئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال سیدنا ابوطلہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے ۔ پھر آپ نے حجام کو بائیں جانب کے بال دیئے تو اُس نے وہ بھی مونڈھ دیئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بال بھی سیدنا ابوطلہ رضی اللہ عنہ کو دیئے اور انھیں حُکم دیا کہ وہ یہ بال لوگوں میں تقسیم کردیں ۔