حدیث نمبر: 2926
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَثُرَتِ الْمَقَالَةُ مِنَ النَّاسِ ، فَخَرَجْنَا حُجَّاجًا حَتَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَ أَنْ نَحِلَّ إِلا لَيَالِي ، قَائِلا : أُمِرْنَا بِالإِحْلالِ فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى عَرَفَةَ وَفَرْجُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " أَبِاللَّهِ تُعْلِمُونِي أَيُّهَا النَّاسُ ، فَأَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ هَدْيًا ، وَلَحَلَلْتُ كَمَا أَحَلُّوا ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلْيَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ، وَمَنْ وَجَدَ هَدْيًا فَلْيَنْحَرْ " ، فَكُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ .

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ( عمرہ کرکے احرام کھولنے کے بارے میں ) لوگوں میں بہت زیادہ باتیں ہوگئیں ۔ ہم صرف حج کی نیت سے آئے تھے حتّیٰ کہ جب احرام کھولنے میں چند دن ہی رہ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( عمرہ کرکے ) احرام کھولنے کا حُکم دے دیا ۔ ( ہم آپس میں کہنے لگے ) کیا ہم میں سے کوئی شخص ( حج کے لئے ) عرفہ اس حالت میں جائیگا کہ اس کی شرمگاہ سے منی کے قطرے نکل رہے ہوںگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں معلوم ہوئیں تو آپ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” اے لوگو تمہیں اللہ کی قسم ، کیا تم جانتے ہو کہ میں الله کی قسم ، تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکام کو جانتا ہوں اور تم سب سے بڑھ کر اُس سے ڈرتا ہوں ۔ اگر مجھے اس معاملے کا پہلے علم ہوتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانورنہ لاتا اور میں بھی دیگر لوگوں کی طرح ( عمرہ کرکے ) احرام کھول دیتا ۔ لہٰذا جس شخص کے پاس قربانی نہ ہو تو وہ تین روزے ادھر ہی رکھ لے اور سات روزے واپس اپنے گھر جا کر رکھ لے ، اور جسے قربانی کا جانور مل جائے تو وہ قربانی کرے ۔ چنانچہ ہم سات افراد کی طرف سے ایک اونٹ نحر کرتے تھے ۔