حدیث کتب › صحيح ابن خزيمه › جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها
صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(326) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، باب: گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان ۔
حدیث نمبر: 2923
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا زَجَرَ عَنْ إِعْطَاءِ الْجَازِرِ مِنْ لُحُومِ هَدْيِهِ عَلَى جِزَارَتِهَا شَيْئًا لَا أَنْ يَتَصَدَّقَ مِنْ لُحُومِهَا عَلَى الْجَازِرِ، لَوْ كَانَ الْجَازِرُ مِسْكِينًا.محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاب کو اس کی اجرت میں قربانی کا گوشت دینے سے منع کیا ہے لیکن اگر قصاب مسکین وغریب ہو تو اس کو بطور صدقہ گوشت دینا منع نہیں ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى الْبُدْنِ ، وَأَمَرَهُ أَنْ لا يُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْ جِزَارَتِهَا شَيْئًا " ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : عَلَى جِزَارَتِهَا شَيْئًامحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی قربانی کے اونٹوں کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری سونپی اور انھیں حُکم دیا کہ وہ قصاب کو اس کی مزدوری میں گوشت نہ دیں ۔ جناب وکیع کی روایت میں ہے کہ اس کی مزدوری میں اونٹ میں سے کچھ نہ دیا جائے ۔