صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(315) بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمُغَالَاةِ بِثَمَنِ الْهَدْيِ وَكَرَائِمِهِ باب: زیادہ قیمتی اور اعلیٰ جانور قربانی کرنا مستحب ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَرْبِ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ شَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَجِيبًا لَهُ أَعْطَى بِهَا ثَلاثَمِائَةِ دِينَارٍ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَهْدَيْتُ نَجِيبَةً ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ بِهَا ثَلاثَمِائَةِ دِينَارٍ ، أَفَأَبِيعُهَا وَأَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا ، فَأَنْحَرُهَا ؟ قَالَ : " لا انْحَرْهَا إِيَّاهَا " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا الشَّيْخُ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ فِي اسْمِهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : جَهْمُ بْنُ الْجَارُودِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : شَهْمٌسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اعلیٰ نسل کا مضبوط و توانا اونٹ قربانی کے لئے مکّہ مکرّمہ روانہ کیا پھر اُنہیں اس کی تین سو دینار قیمت دی جانے لگی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ، میں نے ایک اعلیٰ نسل کا مضبوط اونٹ قربانی کے لئے مکّہ مکرّمہ روانہ کیا ہے اور اب مجھے اس کی سو دینار قیمت مل رہی ہے ، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے کئی اونٹ خرید کر اُن کی قربانی کردوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں اسی عمده اونٹ کو نحر کرو ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب محمد بن سلمہ کے شاگردوں نے ابن جارود کے نام میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ اس کا نام جہم بن جارود بیان کرتے اور کچھ شہم ۔