صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس— نجاست کی وجہ سے کپڑوں کو دھو کر پاک صاف کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(224) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمَنِيَّ لَيْسَ بِنَجَسٍ، وَالرُّخْصَةُ فِي فَرْكِهِ إِذَا كَانَ يَابِسًا مِنَ الثَّوْبِ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ منی ناپاک نہیں ہے اور جب وہ کپڑے پر خشک ہوجائے تو اسے کھرچنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 290
نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا إِسْحَاقُ يَعْنِي الأَزْرَقَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّهَا كَانَتْ تَحُتُّ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کُھرچ دیتی تھیں اور وہ اُس میں نماز پڑھتے ۔