صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(288) بَابُ قَدْرِ الْحَصَى الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجِمَارُ، باب: جمرات پر کتنی بڑی کنکری مارنی چاہیے
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدَ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَاتٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا إِحْدَى أُصْبُعَيْهِ عَلَى الأُخْرَى ، فَقُلْتُ لِعَمِّي : يَا عَمِّ ، مَا يَقُولُ ؟ قَالَ : يَقُولُ : " ارْمُوا الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَاذِفِ " ، وَقَالَ بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ هِنْدَ ، عَنْ حَرْمَلَةَ ، قَالَ : حَجَجْتُ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَمُّ حَرْمَلَةَ بْنِ عَمْرٍو سِنَانُ بْنُ سَنَّةَ سَمَّاهُ وُهَيْبٌسیدنا حرملہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ۔ جب ہم نے عرفات میں وقوف کیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ایک انگلی پر دوسری انگلی رکھی ہوئی تھی ۔ تو میں نے اپنے چچا سے کہا کہ اے چچا جی ، آپ کیا فرما رہے ہیں ؟ اُنھوں نے کہا کہ آپ فرمارہے ہیں : ” جمرات کو خازف کنکریاں مارو ( جو چنے کے دانے کے برابر ہوں ) امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا حرملہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے چچا کا نام جناب وہیب نے سنان بن سنتہ بیان کیا ہے ۔