صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(284) بَابُ الْتِقَاطِ الْحَصَى لِرَمْيِ الْجِمَارِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، باب: جمرات پر رمی کرنے کے لئے کنکریاں مزدلفہ ہی سے چننے کا بیان
وَالْبَيَانُ أَنَّ كَسْرَ الْحِجَارَةِ لِحَصَى الْجِمَارِ بِدْعَةٌ، لِمَا فِيهِ مِنْ إِيذَاءِ النَّاسِ وَإِتْعَابِ أَبْدَانِ مَنْ يَتَكَلَّفُ كَسْرَ الْحِجَارَةِ تَوَهُّمًا أَنَّهُ سُنَّةٌ.اور اس بات کا بیان کے پتھر توڑ کر کنکریاں بنانا بدعت ہے کیونکہ اسے سنّت سمجھ کر پتھر توڑنے والا لوگوں کو تکلیف دیتا ہے اور اپنے آپ کو تھکاتا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حَصِينٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ ، وَهَكَذَا قَالَ عَوْفٌ : " هَاتِ الْقُطْ حَصَيَاتٍ هِيَ حَصَى الْخَذْفِ " ، فَلَمَّا وُضِعْنَ فِي يَدِهِ ، قَالَ : " بِأَمْثَالِ هَؤُلاءِ ، بِأَمْثَالِ هَؤُلاءِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ " سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح ( 10 ذوالحجہ کو ) مجھے حُکم دیا : ” آؤ میرے لئے کنکریاں چن دو چھوٹی چھوٹی ہوں ( جو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکی جاسکتی ہوں ) ۔ ‘‘ جب میں نے وہ آپ کے دست مبارک پر رکھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسی قسم کی کنکریاں لے لو بس ایسی ہی کنکریاں چن لو خبر دار دین کے کاموں میں غلو کرنے سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے ۔ “