حدیث نمبر: 2825
ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : فَمَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ مَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ ، وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ ، وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ الْفَضْلُ : مَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس لوٹے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا ۔ آپ کی اونٹنی نے آپ کو ایک طرف جھکا دیا جبکہ آپ نے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اُٹھائے ہوئے تھے مگر وہ سرسے اونچے نہیں تھے حتّیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے واپس روانہ ہوئے تو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما آپ کے پیچھے سوار تھے۔ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمره عقب کو کنکریاں مارنے تک آپ مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2825