حدیث کتب › صحيح ابن خزيمه › جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها
صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(243) بَابُ الزَّجْرِ عَنِ الْوُقُوفِ بِعُرَنَةَ.
حدیث نمبر: 2817
فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ يُقَالُ : " ارْتَفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ ، وَارْتَفِعُوا عَنْ عُرَنَاتٍ " ، أَمَّا قَوْلُهُ : الْعُرَنَاتُ فَالْوُقُوفُ بِعُرَنَةَ أَلا يَقِفُوا بِعُرَنَةَ ، وَأَمَّا قَوْلُهُ : عَنْ مُحَسِّرٍ فَالنُّزُولُ بِجَمْعٍ أَيْ لا تَنْزِلُوا مُحَسِّرًامحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ وادی محسر اور وادی عرنات سے آگے نکل جاؤ - عرنات کا مطلب یہ ہے کہ وادی عرنہ میں مت ٹهہرو اور وادی محسر کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ مزدلفہ میں ٹهہرتے وقت وادی محسر میں مت اُترو بلکہ اسے چھوڑ کر آگے جا کر ٹهہرو ۔