حدیث نمبر: 2801
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : مِنْ سُنَّةٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفَا فِي الْحَرْفِ وَالسِّنِّ ، وَقَالَ : " فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ ، إِلا النِّسَاءَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ خَلا النِّسَاءَ ، لأَنَّ عَائِشَةَ خَبَّرَتْ : " أَنَّهَا طَيَّبَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ نُزُولِ الْبَيْتِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حج کا طریقہ یہ ہے ۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی ۔ راویوں کا کچھ الفاظ میں اختلاف ہے ۔ اور فرمایا کہ تو اس پر عورت کے سوا ہر چیز حلال ہوجائیگی جو اس پر احرام کی وجہ سے حرام تھی ۔ حتّیٰ کہ بیت اللہ شریف کا طواف کرلے( تو پھر وہ بھی حلال ہو جائیگی ) ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ صحیح اور درست بات یہی ہے کہ جمرہ پر رمی کرنے کے بعد اس کے لئے بیوی سے ہمبستری کے سوا ہر چیز حلال ہو جائیگی کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو طواف افاضہ کرنے سے پہلے خوشبو لگائی تھی ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2801
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔