صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس— نجاست کی وجہ سے کپڑوں کو دھو کر پاک صاف کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(218) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي غَسْلِ الثَّوْبِ مِنْ عَرَقِ الْجُنُبِ " وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ عَرَقَ الْجُنُبِ طَاهِرٌ غَيْرُ نَجِسٍ. باب: جنبی شخص کے پسینے سے کپڑے کو دھونے کی رخصت ہے اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ جنبی کا پسینہ پاک ہے ، نجس نہیں
حدیث نمبر: 280
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ ، نا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " تَتَّخِذُ الْمَرْأَةُ الْخِرْقَةَ ، فَإِذَا فَرَغَ زَوْجُهَا ناوَلَتْهُ فَيَمْسَحُ عَنْهُ الأَذَى ، وَمَسَحَتْ عَنْهَا ، ثُمَّ صَلَّيَا فِي ثَوْبَيْهِمَا " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عورت پُرانے کپڑے کا ٹکڑا رکھ لے ، پھر جب اُس کا خاوند ( جماع سے ) فارغ ہو جائے تو وہ اٗسے دے دے ، وہ اپنے جسم سے گندگی صاف کرلے اور وہ عورت بھی اپنے جسم سے صاف کر لے پھر وہ دونوں ( غسل کرنے کے بعد ) انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیں ۔