حدیث کتب › صحيح ابن خزيمه › جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها
صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(208) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ السَّعْيَ الَّذِي ذَكَرْتُ أَنَّهُ وَاجِبٌ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَسَعْيًا كَانَ أَوْ مَشْيًا بِسَكِينَةٍ وَتُؤَدَةٍ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ صفا اور مروہ کی سعی واجب ہے ، خواہ دوڑ کر کی جائے یا عام رفتار سے آرام وسکون سے چل کر کی جائے
حدیث نمبر: 2773
وَرَوَى سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى عَامًا ، وَمَشَى عَامًا " ، ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال ( صفا مروہ کے درمیان ) دوڑ لگائی اور ایک سال عام چال چلے ۔