صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(208) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ السَّعْيَ الَّذِي ذَكَرْتُ أَنَّهُ وَاجِبٌ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَسَعْيًا كَانَ أَوْ مَشْيًا بِسَكِينَةٍ وَتُؤَدَةٍ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ صفا اور مروہ کی سعی واجب ہے ، خواہ دوڑ کر کی جائے یا عام رفتار سے آرام وسکون سے چل کر کی جائے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُنْذِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي الْمَسْعَى ، فَقُلْتُ لَهُ : تَمْشِي فِي الْمَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟ فَقَالَ : " لَئِنْ سَعَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى ، وَلَئِنْ مَشَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي ، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ " جناب کثیر بن جمہان سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دوڑنے کی جگہ ( صفا مروہ کے نشیبی علاقے ) میں عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو میں نے اُن سے عرض کیا کہ آپ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کی جگہ پر عام چال ( کیوں ) چل رہے ہیں ؟ تو اُنہوں نے فرمایا ، اگر میں دوڑ لگاؤں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اور اگر میں عام چال چلوں تو بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے ، اور میں ایک بوڑھا شخص ہوں ( اس لئے عام رفتار سے چل رہا ہوں ) ۔