حدیث نمبر: 2770
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُنْذِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي الْمَسْعَى ، فَقُلْتُ لَهُ : تَمْشِي فِي الْمَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟ فَقَالَ : " لَئِنْ سَعَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى ، وَلَئِنْ مَشَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي ، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب کثیر بن جمہان سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دوڑنے کی جگہ ( صفا مروہ کے نشیبی علاقے ) میں عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو میں نے اُن سے عرض کیا کہ آپ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کی جگہ پر عام چال ( کیوں ) چل رہے ہیں ؟ تو اُنہوں نے فرمایا ، اگر میں دوڑ لگاؤں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اور اگر میں عام چال چلوں تو بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے ، اور میں ایک بوڑھا شخص ہوں ( اس لئے عام رفتار سے چل رہا ہوں ) ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2770
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح