صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس— نجاست کی وجہ سے کپڑوں کو دھو کر پاک صاف کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(216) بَابُ اسْتِحْبَابِ غَسْلِ دَمِ الْحَيْضِ مِنَ الثَّوْبِ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ، وَحَكِّهِ بِالْأَضْلَاعِ، باب: حیض کے خون والے کپڑے کو پانی اور بیری سے دھونا اور اسے لکڑی سے کھرچنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 277
إِذْ هُوَ أَحْرَى أَنْ يَذْهَبَ أَثَرُهُ مِنَ الثَّوْبِ إِذَا حُكَّ بِالضِّلَعِ، وَغُسِلَ بِالسِّدْرِ مَعَ الْمَاءِ، مِنْ أَنْ يُغْسَلَ بِالْمَاءِ بَحْتًا.محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کیونکہ صرف پانی سے دھونے کی بجائے جب اسے لکڑی سے کھرچا جائے اور پانی اور بیری سے دھویا جائے تو یہ خون کے اثر کو مٹانے میں زیادہ مؤثر اور کارگر ہے۔
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ وَهُوَ الْحَدَّادُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ ، فَقَالَ : " اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ ، وَحُكِّيهِ بِضِلْعٍ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ اُم قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے کو لگنے والے حیض کے خون کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اُسے پانی اور بیری ( کے پتّوں ) سے دھولو اور اُسے لکڑی سے کُھرچ ڈالو۔ “