حدیث کتب › صحيح ابن خزيمه › جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها
صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(206) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ [عَلَى] أَنَّ اللَّهَ- عَزَّ وَجَلَّ- إِنَّمَا أَعْلَمَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِمْ فِي الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو بتا دیا ہے کہ صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے میں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے
حدیث نمبر: 2768
ثنا بِخَبَرِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَتِ الأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى نَزَلَتْ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، زَادَ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ : فَطَافُوامحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصاری صحابہ کرام صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ناپسند کرتے تھے حتّیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی : « إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ » [ سورة البقرة : 158 ] ” بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ “ جناب سلم بن جنادہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر انہوں نے سعی کرنا شروع کردی ۔