حدیث کتب › صحيح ابن خزيمه › جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها
صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(205) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَاجِبٌ، لَا أَنَّهُ مُبَاحٌ غَيْرُ وَاجِبٍ باب: اس بات کا بیان کہ صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا واجب ہے ، یہ مباح یا غیر واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: 2764
لِقَوْلِهِ [تَعَالَى]: فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا [الْبَقَرَةِ: 158]. وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ: فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا. لَيْسَ فِي الْمَعْنَى كَقَوْلِهِ: فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ [النِّسَاءِ: 101]حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مَقْدَمٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نُبَيْهٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ جَدَّتِهَا بِنْتِ أَبِي تَجْزَأَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ لَنَا خِلْفَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَتِ : اطَّلَعْتُ مِنْ كَوَّةٍ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَأَشْرَفْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذَا هُوَ يَسْعَى ، وَإِذَا هُوَ يَقُولُ لأَصْحَابِهِ : " اسْعَوْا ، فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ " ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ يَدُورُ الإِزَارُ حَوْلَ بَطْنِهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ بَطْنِهِ ، وَفَخِذَيْهِ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت حبیبہ بنت ابو تجراۃ بیان کرتی ہیں کہ جاہلیت میں ہمارا ایک دریچہ ہوتا تھا ( جو صفا مروہ کی طرف کھلتا تھا ) وہ فرماتی ہیں کہ میں نے روشندان سے صفا و مروہ کے درمیان جھانکا تو میری نظر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی جبکہ آپ دوڑ رہے تھے اورآپ اپنے صحابہ کرام سے کہہ رہے تھے : ” دوڑو کیونکہ الله تعالی نے تم پر ( اس جگہ ) دوڑنا فرض کیا ہے ۔ “ بیشک میں نے دیکھا کہ تیز رفتاری کی وجہ سے آپ کا تہہ بند آپ کے پیٹ مبارک کے گرد گھوم رہا تھا حتّیٰ کہ میں نے آپ کے پیٹ اور ران کی سفیدی دیکھی ۔