صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(197) بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الطَّوَافِ عِنْدَ الْمَقَامِ باب: طواف سے فارغ ہوکر مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ : " إِذَا فَرَغَ يُرِيدُ مِنَ الطَّوَافِ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ ، فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ ، وَتَلا : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، قَالَ : أَيْ يَقْرَأُ فِيهَا بِالتَّوْحِيدِ ، وَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ سورة الكافرون آية 1 " جناب جعفر بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا ، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے اُن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں پوچھا ۔ پھرمکمّل حدیث بیان کی اور فرمایا کہ جب آپ طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعات ادا کیں ۔ اور یہ آیت تلاوت کی « وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى » [ سورة البقرة : 125 ] ” اور تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ “ آپ نے ان دو رکعت میں « قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ » اور « قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ » سورتوں کو پڑھا ۔