حدیث کتب › صحيح ابن خزيمه › جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها
صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(193) بَابُ إِبَاحَةِ الطَّوَافِ وَالصَّلَاةِ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْفَجْرِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ، باب: مکّہ مکرّمہ میں نماز فجر اور نماز عصر کے بعد طواف کرنا اور نماز جائز ہے ۔
حدیث نمبر: 2747
وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ مَذْهَبِ الْمُطَّلِبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِزَجْرِهِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، بَعْضَ الصَّلَاةِ لَا جَمِيعَهَامحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور مطلبی مذہب کے صحیح ہونے کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے بعد طلوع شمس تک اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع کیا ہے تو اس سے آپ کی مراد بعض نمازیں ہیں ساری نمازیں نہیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ : عَبْدُ الْجَبَّارِ قَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَاهُ ، يُخْبِرُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، لا يُمْنَعَنَّ أَحَدٌ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ كَانَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ " ، وَلَفْظُ مَتْنِ الْحَدِيثِ لَفْظُ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ ، وَقَالَ عَلِيٌّ ، وَأَحْمَدُ : عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عبد مناف کے بیٹو، دن اور رات کی جس گھڑی میں بھی کوئی شخص اس بیت اللہ شریف کا طواف کرنا چاہے یا نماز پڑھنا چاہے تو تم اسے ہر گز نہ روکنا ۔ “ حدیث کے متن کے الفاظ علی بن خشرم کی روایت کے ہیں ۔