حدیث کتب › صحيح ابن خزيمه › جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها
صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(187) بَابُ اسْتِحْبَابِ ذِكْرِ اللَّهِ فِي الطَّوَافِ باب: طواف کے دوران اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2738
إِذِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ إِنَّمَا جُعِلَ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ، لَا بِحَدِيثِ النَّاسِ وَالِاشْتِغَالِ بِمَا لَا يُجْرِي عَلَى الطَّائِفِ نَفْعًا فِي الْآخِرَةِ، وَإِنْ كَانَ التَّكَلُّمُ بِالْخَيْرِ فِي الطَّوَافِ طَلْقًا مُبَاحًا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ الْكَلَامُ ذِكْرَ اللَّهِحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقِدَاحُ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ ، وَالطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ لَيْسَ لِغَيْرِهِ " ، انْتَهَى حَدِيثُ بُنْدَارٍ ، وَزَادَ الآخَرُونَ فِي الْحَدِيثِ : وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” بیشک جمرات کو رمی کرنا اور بیت اللہ شریف کا طواف کرنا ، یہ سب اللہ تعالی کے ذکر کرنے کے لئے مقرر کیے گئے ہیں ، اس کے سوا کوئی مقصد نہیں ۔ “ جناب بندار کی روایت انہی الفاظ پر ختم ہو جاتی ہے ۔ دیگر راویوں کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ صفا اور مروہ کی سعی کرنے کا مقصد بھی اللہ تعالی کا ذکر کرنا ہے ۔