صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب التيمم عند الإعواز من الماء فى السفر،— سفر میں پانی کی عدم موجودگی اور اس بیماری کی وجہ سے تیّمم کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(212) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي التَّيَمُّمِ لِلْمَجْدُورِ وَالْمَجْرُوحِ، وَإِنْ كَانَ الْمَاءُ مَوْجُودًا إِذَا خَافَ- إِنْ مَاسَّ الْمَاءُ الْبَدَنَ- التَّلَفَ أَوِ الْمَرَضَ أَوِ الْوَجَعَ الْمُؤْلِمَ باب: چیچک زدہ اور زخمی شخص کے لیے پانی کی موجودگی میں بھی تیمّم کرنے کی رخصت ہے جبکہ وہ بدن پر پانی لگنے سے ہلاک ہونے ، مرض بڑھنے یا شدید درد میں مبتلا ہونے سے خوف زدہ ہو
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، نا أَبِي ، أَخْبَرَنِي إِيَّاهُ الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ عَطَاءً حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ ، فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا لَهُمْ ؟ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ ، ثَلاثًا ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ الصَّعِيدَ أَوِ التَّيَمُّمَ طَهُورًا " ، شَكَّ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ ، ثُمَّ أَثْبَتَهُ بَعْدُسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص سردیوں میں جنبی ہوگیا تو اُس نے ( مسئلہ ) پوچھا تو اُسے غسل کرنے کا حُکم دیا گیا ۔ ( اُس نے غسل کیا ) تو وہ فوت ہوگیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں کیا ہوا تھا ، اُنہوں نے اسے قتل کر دیا اللہّ تعالیٰ انہیں قتل کرے۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ” اللہّ تعالیٰ نے مٹّی یا تیمّم کو پاک کرنے والا بنایا ہے۔ “ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں شک ہے ( اُنہوں نے مٹّی کہا یا تیمّم ) پھر یہ شک ختم ہو گیا ۔