حدیث نمبر: 273
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، نا أَبِي ، أَخْبَرَنِي إِيَّاهُ الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ عَطَاءً حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ ، فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا لَهُمْ ؟ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ ، ثَلاثًا ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ الصَّعِيدَ أَوِ التَّيَمُّمَ طَهُورًا " ، شَكَّ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ ، ثُمَّ أَثْبَتَهُ بَعْدُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص سردیوں میں جنبی ہوگیا تو اُس نے ( مسئلہ ) پوچھا تو اُسے غسل کرنے کا حُکم دیا گیا ۔ ( اُس نے غسل کیا ) تو وہ فوت ہوگیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں کیا ہوا تھا ، اُنہوں نے اسے قتل کر دیا اللہّ تعالیٰ انہیں قتل کرے۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ” اللہّ تعالیٰ نے مٹّی یا تیمّم کو پاک کرنے والا بنایا ہے۔ “ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں شک ہے ( اُنہوں نے مٹّی کہا یا تیمّم ) پھر یہ شک ختم ہو گیا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب التيمم عند الإعواز من الماء فى السفر، / حدیث: 273
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده حسن صحيح