صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(165) بَابُ الْبُكَاءِ عِنْدَ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، وَفِي الْقَلْبِ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ هَذَا، باب: حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے رونے کا بیان ۔ میرا دل محمد بن عون کے بارے میں مطمئن نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : فَدَخَلْنَا مَكَّةَ حِينَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى ، فَأَتَى يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابَ الْمَسْجِدِ ، فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَلَمَ ، وَفَاضَتْ عَيْنَاهُ بِالْبُكَاءِ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : " وَرَمَلَ ثَلاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا ، حَتَّى فَرَغَ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهِ ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ " سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم چاشت کے وقت مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام کے دروازے پر آئے اور اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر مسجد حرام میں داخل ہوئے ، آپ نے حجر اسود سے ابتداء کی، اس کا استلام کیا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے پھر بقیہ حدیث بیان کی ۔ اور فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے تین چکّروں میں دلکی چال چلی اور چار چکّر عام رفتار سے لگائے ، جب آپ طواف سے فارغ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو بوسہ دیا، اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھے اور پھر انہیں اپنے چہرے مبارک پر ملا ۔ “