حدیث نمبر: 2712
وَوَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْحَجَرِ، وَمَسْحِ الْوَجْهِ بِهِمَا، وَلَكِنْ خَبَرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ثَابِتٌ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

دونوں ہاتھ حجر اسود پر رکھنے اور ان کو چہرے پر پھیرنے کا بیان ۔ محمد بن علی کی حدیث ثابت ہے

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شِيبَ ، نا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ، ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلا ، فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ يَبْكِي ، فَقَالَ : " يَا عُمَرُ ، هَا هُنَا تُسْكَبُ الْعَبَرَاتُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک حجراسود کی طرف کیا اور حجر اسود کا استلام کیا ۔ پھر آپ نے اپنے ہونٹ اس پر رکھ دیئے اور دیر تک روتے رہے پھر مڑ کر دیکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رو رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عمر، اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2712
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده ضعيف