حدیث نمبر: 2698
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ زَبْرٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ ، وَيُعَاوِدُ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَأَخْبَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَقْطَعِ التَّلْبِيَةَ عِنْدَ دُخُولِهِ الْحَرَمَ قَطْعًا لَمْ يُعَاوِدْ . . . . . سَأَذْكُرُ تَلْبِيَتَهُ إِلَى أَنْ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فِي مَوْضِعِهَا مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ وَفَّقَ اللَّهُ لِذَلِكَ وَشَاءَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب قاسم بن محمد بیان کر تے ہیں کہ میں نے سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ حدود حرم میں داخل ہوتے ہی تلبیہ پکارنا بند کر دیتے تھے ۔ جب وہ بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی سے فارغ ہو جاتے تو دوبارہ تلبیہ کہنا شروع کر دیتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث جن میں یہ ذکر ہے کہ آپ جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ کہتے رہتے تھے، وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدود حرم میں داخل ہونے پر بالکل تلبیہ کہنا بند نہیں کرتے تھے ( بلکہ صفا مروہ کی سعی کے بعد دوبارہ شروع کر دیتے تھے ) میں اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مشیت سے اس کتاب میں مناسب موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ کہنے کی احادیث ذکر کروںگا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2698
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح