صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(137) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي حَلْقِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ إِذَا مَرِضَ أَوْ أَذَاهُ الْقُمَّلُ أَوِ الصِّيبَانُ أَوْ هُمَا، باب: محرم جب بیمار ہو جائے یا اسے بڑی جوئیں اور چھوٹی جوئیں تکلیف دے رہی ہوں تو وہ سر کے بال منڈوا سکتا ہے
وَإِيجَابِ الْفِدْيَةِ عَلَى حَالِقِ الرَّأْسِ وَإِنْ كَانَ حَلْقُهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ أَذًى بِرَأْسِهِمگر اسے فدیہ دینا واجب ہوگا اگر چہ اس نے کسی بیماری یا سر میں تکلیف کی بنا پر ہی سر منڈوایا ہو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَنَا كَثِيرُ الشَّعْرِ ، فَقَالَ : " كَأَنَّ هَوَامَّ رَأْسِكَ يُؤْذِيكَ ؟ " فَقُلْتُ : أَجَلْ ، قَالَ : " فَاحْلِقْهُ وَاذْبَحْ شَاةً نَسِيكَةً ، أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ تَصَدَّقَ بِثَلاثَةِ آصُعٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينٍ " سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میرے بال کافی بڑے اور گھنے تھے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گویا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں ؟ “ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا سر منڈوا لو اور ایک بکری قربان کرو یا تین روزے رکھو یا تین صاع اناج چھ مسکینوں میں صدقہ کردو ۔ “