صحيح ابن خزيمه
كتاب: المناسك— حج کے احکام و مسائل
(100) بَابُ الْبَيَانِ أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالْإِهْلَالِ مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ، باب: اس بات کا بیان کہ بلند آواز سے تلبیہ پکارنا حج کے شعار میں سے ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ ، فَقَالَ لِي : أَشْعِرْ بِالتَّلْبِيَةِ ، فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذِهِ اللَّفْظَةُ : فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي كُنْتُ أَعْلَمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ تَقُولُ : إِنَّ أَفْضَلَ الْعَمَلِ كَذَا ، وَإِنَّمَا تُرِيدُ مِنْ أَفْضَلِ ، وَخَيْرُ الْعَمَلِ كَذَا ، وَإِنَّمَا تُرِيدُ مِنْ خَيْرِ الْعَمَلِ وَالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ : فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ : أَيْ مِنْ شِعَارِ الْحَجِّسیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میرے پاس حضرت جبرائیل عليه السلام آئے توانہوں نے کہا کہ ” تلبیہ کو شعار بنائیں کیونکہ تلبیہ حج کا شعار ہے ۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ” تلبیہ حج کا شعار ہے “ یہ اسی قسم سے تعلق رکھتا ہے جس کے بارے میں میں بیان کرچکا ہوں کہ عرب لوگ یہ کہتے ہیں کہ ” یہ افضل ترین عمل ہے “ اور ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ عمل افضل ترین اعمال میں سے ایک ہے ۔ کبھی عرب کہتے ہیں کہ ” بہترین عمل اس طرح ہے “ اور ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ عمل بہترین اعمال میں سے ایک بہتر عمل ہے ۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان : ” تلبیہ شعار حج ہے “ سے آپ کی مراد یہ ہے کہ تلبیہ شعار حج میں سے ایک شعار ہے ۔