صحيح ابن خزيمه
كتاب: المناسك— حج کے احکام و مسائل
(83) بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ باب: حج تمتع کرنا مستحب ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ ، فَقُلْتُ : مَنْ أَغْضَبَكَ ؟ فَقَالَ : " أَمَّا شَعَرْتِ إِنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ " ، قَالَ الْحَكَمُ : يَتَرَدَّدُونَ أَحْسِبُ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ ، ثُمَّ أَحِلُّ كَمَا حَلُّواسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالجحہ کی چار یا پانچ تاریخ کو ( مکّہ آئے ) آپ میرے پاس تشریف لائے تو آپ سخت غصّے میں تھے ۔ تو میں نے عرض کیا کہ آپ کو کس نے اس قدر غصّہ دلایا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں پتہ نہیں چلا کہ میں نے لوگوں کو ایک حُکم دیا ہے اور وہ اس کی تعمیل میں تردد کر رہے ہیں ۔ “ جناب حکم کی روایت میں ہے کہ ” وہ تردد کر رہے ہیں ، اگر مجھے اپنے معاملے کا پہلے علم ہوتا تو میں قربانی کا جانور اپنے ساتھ ( مدینہ منوّرہ سے ) نہ لاتا اور مکّہ مکرّمہ سے خرید لیتا ۔ پھر میں بھی ( صرف عمرہ کرکے ) احرام کھول دیتا جیسا کہ ان صحابہ سے کھولا ہے ۔ “