صحيح ابن خزيمه
كتاب: المناسك— حج کے احکام و مسائل
(63) بَابُ إِيجَابِ إِبْدَالِ الْهَدْيِ الْوَاجِبِ إِذَا ضَلَّتْ- باب: جب واجب قربانی کا جانور سفر میں گم ہوجائے تو اس کے بدلے دوسری قربانی بھیجنا ضروری ہے ۔
حدیث نمبر: 2579
إِنَّ صَحَّ الْخَبَرُ، وَلَا أَخَالُ؛ فَإِنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ہو ۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ صحیح نہیں کیونکہ عبداللہ بن عامر الاسلمی کے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہے
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ سُلَيْمَانُ ، وَصَالِحُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَهْدَى تَطَوُّعًا ، ثُمَّ ضَلَّتْ ، فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ ، وَإِنْ كَانَتْ فِي نَذْرٍ فَلْيُبْدِلْ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” جس شخص نے نفلی قربانی کے لئے اونٹ بھیجا پھر وہ راستے میں گم ہوگیا تو وہ چاہے تو اس قربانی کا بدل بھیجدے اور اگر چاہے تو نہ بھیجے ، اور اگر وہ قربانی کا جانور نذر کی وجہ سے بھیج رہا تھا تو پھر ضرور اس کا متبادل دے ۔ “