صحيح ابن خزيمه
كتاب: المناسك— حج کے احکام و مسائل
(49) بَابُ وَصِيَّةِ الْمُسَافِرِ بِالتَّكْبِيرِ عِنْدَ صُعُودِ الشَّرَفِ وَالتَّسْبِيحِ عِنْدَ الْهُبُوطِ باب: مسافر کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ جب وہ بلندی اور چڑھائی چڑھے تو ” اللہ اکبر“ پڑھے اور جب نیچے اترے تو ” سبحان اللہ“ پڑھے
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ " ، فَلَمَّا مَضَى ، قَالَ : " اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ " سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ سفر پر جارہا تھا ۔ تو اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے نصحیت فرمائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور ہر بلند جگہ چڑھتے ہوئے اللہ اکبر پڑھنے کی نصیحت کرتا ہوں ۔ “ پھر جب وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اُس کے لئے ) یہ دعا فرمائی : « اللَّهُمَّ أزْوِلَهُ اْلأرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ » ” اے اللہ اس کے سفر کی مسافت کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان بنادے ۔ “