صحيح ابن خزيمه
كتاب: المناسك— حج کے احکام و مسائل
(48) بَابُ ذِكْرِ تَوْقِيتِ أَوَّلِ اللَّيْلِ الَّذِي كُرِهَ الِانْتِشَارُ وَالْخُرُوجُ فِيهِ باب: رات کے ابتدائی حصّے کی مقدار کا بیان کہ جس میں گھروں سے باہر نکلنا اور گھومنا پھرنا منع ہے
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَكُفُّوا مَوَاشِيَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ مِنْ عِنْدِ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى أَنْ تَذْهَبَ " ، قَالَ لَنَا يُوسُفُ : فَحْوَةُ الْعِشَاءِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَهَذَا عِلْمِي تَصْحِيفٌ ، إِنَّمَا هُوَ فَحْوَةُ الْعِشَاءِ اشْتَدَّ الظَّلامُ ، هَكَذَا قَالَ غَيْرُ يُوسُفَ فِي هَذَا الْخَبَرِ فَحْوَةٌسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مویشیوں اور اہل وعیال کو سورج غروب ہونے سے عشاء کا اندھیرا ختم ہونے تک روکے رکھو ( انہیں باہر نہ نکلنے دو ) “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں ۔ میرے علم کے مطابق اس حدیث کے الفاظ میں تصحیف ہوئی ہے ۔ اصل الفاظ ” فَحْمَةُ العِشَاءِ “ ہیں ۔ ( یعنی جب عشاء کا اندھیرا شدید ہو جائے ) ۔ جب کہ حدیث میں ” فَحْوَةُ العِشَاءِ “ بیان کر دیا گیا ہے ۔ جناب یوسف بن موسیٰ کے علاوہ دیگر راویوں نے فحمة يا فحوة کے الفاظ روایت کیے ہیں ۔