حدیث نمبر: 2548
وَالْأَمْرِ بِإِمْكَانِ الرِّكَابِ عَنِ الرَّعْيِ فِي الْخِصْبِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ؛ فَإِنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْ سَمَاعِ الْحَسَنِ مِنْ جَابِرٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سوار کو یہ حُکم ہے کہ سواری کو سر سبز علاقے میں چرنے کا موقع دے ۔ بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ہو ۔ کیونکہ امام حسن بصری کے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سماع کرنے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہے ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ سَالِمٌ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ ، فَأَمْكِنُوا الرِّكَابَ مِنْ أَسْنَانِهَا ، وَلا تَتَجَاوَزُوا الْمَنَازِلَ ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْجَدْبِ ، فَانْجُوا وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ ، فَإِنَّ الأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ ، وَإِذَا تَوَغَّلَتْكُمُ الْغِيلانُ ، فَبَادِرُوا بِالصَّلاةِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْمَعْرَسَ عَلَى جَوَادِ الطَّرِيقِ ، وَالصَّلاةَ عَلَيْهَا ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ ، وَقَضَاءِ الْحَاجَةِ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا الْمَلاعِنُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرنے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اپنی سواریوں کو چرنے کا موقع دو اور منازل پر رکے بغیر مت گزرو ( تا کہ جانور آرام کرلیں اور پانی وغیرہ پی لیں ) ۔ اور جب تم خشک علاقوں میں سفر کرو تو تیز رفتاری سے گزر جاؤ اور رات کے وقت سفر کرو کیونکہ رات کے وقت زیادہ سفر طے ہوتا ہے ۔ اور جب غول شیاطین رنگ بدل بدل کر تمہارے سامنے نمودار ہوں تو تم جلدی سے نماز پڑھ لو ۔ ( اور رات کے وقت ) بڑے راستوں پر آرام کے لئے ہرگز نہ اترو اور نہ وہاں نماز پڑھو کیونکہ بڑے راستے سانپوں اور درندوں کی پناہ گاہ ہیں ۔ اور ایسے راستوں پر قضائے حاجت بھی نہ کرو کیونکہ یہ کام لوگوں کی لعنت کا باعث بنتا ہے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب: المناسك / حدیث: 2548
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده ضعيف