صحيح ابن خزيمه
كتاب: المناسك— حج کے احکام و مسائل
(33) بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْمِيَةِ اللَّهِ- عَزَّ وَجَلَّ- عِنْدَ الرُّكُوبِ وَإِبَاحَةِ الْحَمْلِ عَلَى الْإِبِلِ فِي الْمَسِيرِ قَدْرَ طَاقَتِهَا باب: سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا حُکم اور سفر میں اونٹ کی طاقت کے مطابق سواری کرنے کی اباحت کا بیان
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، وَرَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي لاسٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ خِفَافٍ لِلْحَجِّ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ ، فَقَالَ : " مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلا وَعَلَى ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ ، فَاذْكُرُوا اللَّهَ إِذَا رَكِبْتُمُوهَا كَمَا أَمَرَكُمْ ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لأَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ " سیدنا ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سفرحج کے لئے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے کمزور اونٹوں پرسوار کیا ۔ تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ، ہمارے خیال میں یہ اونٹ ہمیں سواری کا کام نہیں دے سکیں گے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے تو تم جب ان پر سوار ہونے لگو تو اللہ تعالیٰ کے حُکم کے مطابق اس کا نام لیکر ( بسم اللہ پڑھ کر ) ان پر سوار ہوجاؤ پھر ان سے خوب اپنی خدمت لو ، بیشک ( اصل میں ) سوار تو اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ( انسان میں اتنی طاقت کہاں کہ وہ ان طاقتوں جانوروں کو اپنے تابع کر سکے ) “