حدیث نمبر: 2519
بِذِكْرِ خَبَرٍ فِي التَّأْقِيتِ غَيْرِ دَالٍ تَوْقِيتُهُ عَلَى أَنَّ مَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ التَّأْقِيتِ مِنَ السَّفَرِ مُبَاحٌ سَفَرُ الْمَرْأَةِ مَعَ غَيْرِ مَحْرَمٍ وَغَيْرِ زَوْجِهَا، إِذَا كَانَ سَفَرُهَا أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَحَدَّثَنَا سَلِمَ ، أَيْضًا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : عَامَ الْحَجِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُسَافِرُ سَفَرًا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا ، إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ أَبُوهَا ، أَوِ ابْنُهَا ، أَوْ أَخُوهَا ، أَوْ زَوْجُهَا ، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا " ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، وَفِي حَدِيثِ الآخَرِينَ : لا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ سَفَرًا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا ، غَيْرَ أَنَّ فِيَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ : يَكُونُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لئے حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زائد سفر اپنے محرم کے بغیر کرے یعنی اپنے والد ، بیٹے ، بھائی ، خاوند یا کسی اور محرم رشتہ دار کے بغیر ۔ “ یہ روایت جناب ابومعاویہ کی ہے ۔ دوسرے دو راویوں کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ کوئی عورت دن یا اس سے زائد سفر نہ کرے ابن ابی زائدہ کی روایت میں تین دن کا ذکر ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب: المناسك / حدیث: 2519
تخریج حدیث صحيح مسلم