صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الصدقات والمحبسات— صدقات اور اوقاف کے ابواب کا مجموعہ
(183) بَابُ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ عَنْ غَيْرِ وَصِيَّةٍ مِنْ مَالِ الْمَيِّتِ، وَتَكْفِيرِ ذُنُوبِ الْمَيِّتِ بِهَا باب: میت کی وصیت کے بغیر اس کے مال میں سے اس کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان اس میت کے گناہوں کی بخشش ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2498
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبِي مَاتَ ، وَتَرَكَ مَالا ، وَلَمْ يُوصِ ، فَهَلْ يُكَفَّرُ عَنْهُ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " نَعَمْ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میرے والد صاحب فوت ہوگئے ہیں اور کچھ مال بھی چھوڑ گئے ہیں ۔ جبکہ وصیت کرکے نہیں گئے ۔ تو کیا ان کی طرف سے میں صدقہ کروں تو ان کے گناہوں کا کفارہ بنیگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں“ ۔