صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الصدقات والمحبسات— صدقات اور اوقاف کے ابواب کا مجموعہ
(177) بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالْحَبْسِ مِنَ الضِّيَاعِ وَالْأَرَضِينَ باب: زرعی زمینیں اور جاگیریں وقف کرنے کی وصیت کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ حَدَّثَهُمْ , عَنْ عُقَيْلٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لا تُقَسِّمُ وَرَثَتِي شَيْئًا مِمَّا تَرَكْتُ ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ " ، وَكَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ بِيَدِ عَلِيٍّ غَلَبَ عَلَيْهَا عَبَّاسًا ، وَطَالَتْ فِيهَا خُصُومَتُهَا ، فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَقْسِمَهَا بَيْنَهُمَا حَتَّى أَعْرَضَ عَنْهَا عَبَّاسٌ غَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ ، ثُمَّ كَانَتْ عَلَى يَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، وَحَسَنِ بْنِ حُسَيْنٍ ، فَكَانَا يَتَدَاوِلانِهَا ، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ، وَهِيَ صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّاسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اس ذات کی قسم ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں جو چیز چھوڑ جاؤں میرے وارث اسے تقسیم نہیں کریںگے ہم ( انبیاء کرام ) جو مال چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔ یہ صدقہ پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قبضے میں تھا ۔ پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس پر غلبہ پالیا ۔ اس بارے میں ان دونوں حضرات کا طویل جھگڑا چلا ۔ ( پھردونوں نے اسے تقسیم کرنا چاہا ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس مال کو دونوں میں تقسیم کرنے سے انکار کردیا ۔ حتّیٰ کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس مال سے اعراض کرلیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس پر غلبہ پالیا ۔ پھر یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے تصرف میں رہا ۔ پھر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی نگرانی میں چلا گیا ۔ پھر ان کے بعد ان کے بیٹوں علی بن حسین اور حسن بن حسین کی نگرانی میں چلا گیا ۔ جو باری باری اس کا انتظام کرتے رہے ۔ پھر حضرت زید بن حسن کی نگرانی میں چلا گیا ۔ جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی صدقہ ہے ۔