صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صدقة التطوع— نفلی صدقہ کے متعلق ابواب کا مجموعہ
(164) بَابُ الْأَمْرِ بِإِعْطَاءِ السَّائِلِ وَإِنْ قَلَّتِ الْعَطِيَّةُ وَصَغُرَتْ قِيمَتُهَا، باب: سائل کو عطیہ دینے کا حُکم کا بیان اگرچہ عطیہ کم ہو اور اس کی قیمت بھی تھوڑی ہو ۔
وَكَرَاهِيَةِ رَدِّ السَّائِلِ مِنْ غَيْرِ إِعْطَاءٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ لِلْمَسْئُولِ مَا يُجْزِلُ الْعَطِيَّةَجب کسی شخص کے پاس زیادہ بڑا عطیہ دینے کی گنجائش نہ ہوتو بھی سائل کو بغیر عطا کیے لوٹانا ناپسندیدہ ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَسَّانَ . ح وَحَدَّثَنَاهُ هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنِ ابْنِ بُجَيْدٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، السَّائِلُ يَأْتِينِي ، وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أُعْطِيهِ ، قَالَ : " لا تَرُدِّي سَائِلَكِ لَوْ بِظِلْفٍ " ، لَمْ يَقُلِ الأَشَجُّ : مَا أُعْطِيهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرِ : ابْنُ بُجَيْدٍ هَذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدِ بْنِ قِبْطِيٍّجناب ابن بجید اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ( بعض اوقات ) سائل میرے پاس آتا ہے جبکہ میرے پاس اُسے دینے کے لئے کچھ نہیں ہوتا ( تو میں کیا کروں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سائل کو ( خالی ہاتھ ) نہ لوٹانا ، اگر ایک کھری ہی ہو تو وہی دے دو ۔ “ جناب اشج راوی نے ” مَا اُعْطِيْهِ “ کے الفاظ بیان نہیں کیئے ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ابن بجید سے مراد عبدالرحمان بن بجید بن قبطی ہے ۔