حدیث نمبر: 2417
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " صَدَقَةُ رَمَضَانَ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ ، مَنْ جَاءَ بِبُرٍّ قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ جَاءَ بِشَعِيرٍ قُبِلَ مِنْهُ وَمَنْ جَاءَ بِتَمْرٍ قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ جَاءَ بِسُلْتٍ قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ جَاءَ بِزَبِيبٍ قُبِلَ مِنْهُ ، وَأَحْسِبُهُ قَالَ : وَمَنْ جَاءَ بِسَوِيقٍ أَوْ دَقِيقٍ قُبِلَ مِنْهُ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : خَبَرُ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کیا کرتے تھے کہ صدقہ رمضان ایک صاع اناج ہے ، جو شخص گندم ادا کریگا ۔ اس سے قبول کی جائیگی ۔ جس نے جَو ادا کیئے ، اس سے لے لیئے جائیںگے ، جس نے کھجوریں دیں اس سے قبول کی جائیںگی ۔ اور جس نے حجازی جو ادا کیئے اس سے قبول کرلیئے جائیںگے ، اور جس نے کشمش سے ادائیگی کی اس سے وصول کرلی جائیگی ۔ میرے خیال میں انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اور جس شخص نے آٹا یا ستّوادا کیئے تو اس سے لے لیئے جائیںگے ۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی گزشتہ روایت نمبر 2415 ۔ بھی اس مسئلے کے متعلق ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان / حدیث: 2417
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده حسن صحيح