حدیث نمبر: 2407
وَالْوَاجِبُ عَلَى هَذَا الْأَصْلِ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِآصِعٍ مِنْ حِنْطَةٍ فِي بَعْضِ الْأَزْمَانِ وَبَعْضِ الْبُلْدَانِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

وَالْوَاجِبُ عَلَى هَذَا الْأَصْلِ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِآصِعٍ مِنْ حِنْطَةٍ فِي بَعْضِ الْأَزْمَانِ وَبَعْضِ الْبُلْدَانِ‏.‏

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " لَمْ نَزَلْ نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، وَصَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، وَصَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، فَلَمْ تَزَلْ حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ : أَرَى إِنَّ صَاعًا مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعَيْ تَمْرٍ ، فَأَخَذَ بِهِ النَّاسُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک صاع کھجور ، ایک صاع جَو ایک صاع پنیر ہی ادا کرتے رہے ۔ آپ کے بعد بھی یہی معمول رہا حتّیٰ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور حکو مت آیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ میری رائے میں شام کی گندم کا ایک صاع کھجور کے دو صاع کے برابر ہے تو لوگوں نے اسی رائے کے مطابق ( نصف صاع گندم صدقہ فطر ) ادا کرنا شروع کردیا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان / حدیث: 2407
تخریج حدیث صحيح بخاري