صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان— رمضان المبارک میں صدقہ فطرادا کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(113) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ صَدَقَةِ الْفِطْرِ يَجِبُ أَدَاؤُهَا عَنِ الْمَمَالِيكِ الْمُسْلِمِينَ دُونَ الْمُشْرِكِينَ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ مالک صرف اپنے مسلمان غلاموں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے گا ۔
خِلَافَ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّهَا وَاجِبَةٌ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبِيدِهِ الْمُشْرِكِينَمشرک غلاموں کی طرف سے نہیں ان علماء کے قول کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ مسلمان آدمی اپنے مشرک غلاموں کی طرف سے بھی صدقہ فطر ادا کرے گا
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ فِي رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ، رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدِيثُ مَالِكٍ ، وَابْنِ شَوْذَبٍ ، وَكَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ مِنْ هَذَا الْبَابِسیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان پر خواہ وہ آزاد ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت ، چھوٹا ہو یا بڑا سب پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو رمضان المبارک میں صدقہ فطر فرض کیا ہے ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مالک ، ابن شوذب اور کثیر بن عبداللہ کی اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت اسی مسئلے کے متعلق ہیں ۔