صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها— زکوٰۃ کی تقسیم کے ابواب کا مجموعہ اور مستحقین کی زکوٰۃ کا بیان
(77) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ هُمْ مِنْ آلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ، لَا كَمَا قَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ آلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ، آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ الْعَبَّاسِ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ آلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن پر زکوٰۃ حرام ہے وہ بنی عبدالمطلب ہیں ۔
لَا كَمَا قَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ آلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ، آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ الْعَبَّاسِآلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن پر صدقہ حرام ہے ان سے آلِ علی ، آل جعفر اور آلِ عباس مراد نہیں جیسے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے
امام ابوبکر رحمه الله حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ کی حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آل عبدالمطلب پر زکوٰۃ اسی طرح حرام ہے جس طرح کہ ان کے علاوہ ہاشم کی اولاد پر حرام ہے ۔ جیسا کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن پر زکوٰۃ حرام ہے ، وہ آل علی ، آل عقیل ، آل عباس اور آل مطلب ہیں ۔ اور جناب المطلبی فرماتے تھے , بیشک آلِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد بنو ہاشم اور بنوالمطلب ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے بدلے میں غنیمت کے صدقے میں سے ایک حصّہ عطا کیا ہے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوی القربی ( قرابت داروں ) کا حصّہ بنی ہاشم اور بنی مطلب کے درمیان تقسیم کرکے وضاحت فرمادی کہ اللّٰہ تعالیٰ کے ارشاد « ذَوِي الْقُرْبَىٰ » ” قرابت داروں کو دو “ سے مراد بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر قرابتدار اس میں شامل نہیں ہیں ۔