صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها— زکوٰۃ کی تقسیم کے ابواب کا مجموعہ اور مستحقین کی زکوٰۃ کا بیان
(76) بَابُ ذِكْرِ دَّلَائِلِ أُخْرَى عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ "- صَدَقَةَ الْفَرِيضَةِ دُونَ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ باب: اس بات کے مزید دلائل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ” بیشک صدقہ آلِ محمد کے لئے حلال نہیں ہے “ سے آپ کی مراد فرض صدقہ ( زکوٰۃ ) مراد ہے ۔ نفلی صدقہ مراد نہیں ہے
حدیث نمبر: 2353
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ” ہماری میراث تقسیم نہیں کی جائیگی ، جو مال ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوگا ۔ بلاشبہ آلِ محمد اس مال میں سے کھائیں گے ۔ “ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آپ کی آل آپ کے صدقہ میں سے کھائے گی کیونکہ آپ کا صدقہ فرض صدقہ ( زکوٰۃ ) نہیں ہے ۔