صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب غسل الجنابة— غسل جنابت کے متعلق ابواب کا مجموعہ
(183) بَابُ ذِكْرِ إِيجَابِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ فِي الِاحْتِلَامِ إِذَا أَنْزَلَتِ الْمَاءَ باب: احتلام کی وجہ سے عورت کی منی نکل جائے تو اس پر غسل واجب ہوجاتا ہے
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ قَالَ : " إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : فَضَحْتِ النِّسَاءَ ، وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرِبَتْ يَمِينُكِ وَفِيمَا يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا " . هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ , غَيْرُ أَنَّ الدَّوْرَقِيَّ لَمْ يَقُلْ : إِذًا ، وَانْتِهَاءُ حَدِيثِ مَالِكٍ ، عِنْدَ قَوْلِهِ : إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ ، وَلَمْ يَذْكُرُ مَا بَعْدَهَا مِنَ الْحَدِيثِسیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، تو اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس عورت کے متعلق پوچھا جو خواب میں مرد کی طرح دیکھتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ” جب وہ پانی دیکھے تو اُسے غسل کرنا چاہیے۔ “ ( سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا ) کہتی ہیں کہ میں نے کہا ، ( اُم سلیم ) تم نے توعورتوں کورسوا کردیا ہے کیا عورت کوبھی احتلام ہوتا ہے؟ تو نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ( اگر ایسا نہیں ہے تو ) پھر بچّہ ماں کے مشابہ کیسے ہوتا ہے۔ ؟ “ یہ وکیع کی حدیث ہے۔ دورقی (راوی) نے « اذا » کا لفظ بیان نہیں کیا جبکہ مالک کی حدیث « اذا رَاَتِ الْمَاءَ » پر ختم ہو جاتی ہے۔