حدیث نمبر: 233
يَلْتَقِي فِيهِ الْخِتَانَانِ أَوْ يَتَمَاسَّانِ، كَانَ الْإِمْنَاءُ مِنْ مُبَاشَرَةٍ أَوْ جِمَاعٍ دُونَ الْفَرْجِ، أَوْ مِنْ قُبْلَةٍ أَوْ مِنِ احْتِلَامٍ، كَانَ الْإِمْنَاءُ فِي الْيَقَظَةِ بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَبْلَ تَبَوُّلِ الْجُنُبِ قَبْلَ الِاغْتِسَالِ أَوْ بَعْدَهُ، أَوْ بَعْدَ مَا يَبُولُ‏.‏ ضِدُّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْإِمْنَاءَ إِذَا كَانَ بَعْدَ الْجَنَابَةِ، وَبَعْدَ الِاغْتِسَالِ قَبْلَ تَبَوُّلِ الْجُنُبِ أَوْجَبَ ذَلِكَ الْمَنِيُّ غُسْلًا ثَانِيًا، وَإِنْ كَانَ الْإِمْنَاءُ بَعْدَ مَا تَبَوَّلَ الْجُنُبُ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ بَعْدَ الْبَوْلِ مَا يُوجِبُ ذَلِكَ الْإِمْنَاءُ- زَعَمَ- غُسْلًا‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جس میں شرم گاہیں آپس میں ملتی ہیں یا ایک دوسری کو چُھوتی ہیں، خواہ منی کا انزال مباشرت سے ہو، شرم گاہ کے علاوہ کسی حصّے میں جماع کرنے سے ہو یا بوس و کنار یا احتلام کی وجہ سے ہو خواہ منی کا انزال غسل جنابت کے بعد بیداری کی حالت میں ہو جنبی شخص کے پیشاب کرنے سے پہلے غسل سے قبل یا بعد میں ہو ۔ یا پیشاب کرنے کے بعد ہو، ان علماء کے دعویٰ کے برعکس جو کہتے ہیں کہ اگر منی کا انزال جنابت اورغسل کرنے کے بعد جنبی شخص کے پیشاب کرنے سے پہلے ہو تو اس سے دوسرا غسل واجب ہو جاتا ہے اور اگر جنبی شخص کے پیشاب کرنے کے بعد منی کا انزال ہو، پھر وہ پیشاب کرنے کے بعد غسل کرے تو اس انزال سے غسل واجب نہیں ہوتا۔

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ بْنَ رَوْحٍ ، حَدَّثَهُمْ ، عَنْ عُقَيْلٍ وَهُوَ ابْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بپشک ( غسل کا ) پانی ( منی کے ) پانی سے واجب ہوتا ہے۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب غسل الجنابة / حدیث: 233
تخریج حدیث صحيح مسلم