حدیث نمبر: 2311
قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-‏:‏ ‏[‏وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ‏]‏‏.‏ ‏[‏الْبَقَرَةِ‏:‏ 267‏]‏
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : كَانَ أُنَاسٌ يَتَلاءَمُونَ بِئْسَ أَثْمَارُهُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ سورة البقرة آية 267 ، قَالَ : " فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَوْنَيْنِ الْجُعْرُورِ ، وَعَنْ لَوْنِ حُبَيْقٍ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنے خراب اور ردی پھل ( مسجد نبوی میں ) لٹکا دیتے تھے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی « وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ » ” اور تم ردی اور خراب چیزیں ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرنے کا ارادہ مت کرو حالانکہ تم تو انہیں لینا بھی پسند نہیں کرتے الاّیہ کہ تم ان کے بارے میں چشم پوشی کرو ۔ “ [ سورة البقرة : 267 ] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( زکوٰۃ اور صدقے میں) کھجور کی دو قسمیں جعروراور حبیق دینے سے منع کر دیا ( کیونکہ یہ ردی اقسام ہیں ) ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار / حدیث: 2311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح