صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صدقة الورق— چاندی کی زکوٰۃ کے متعلق ابواب کا مجموعہ
(38) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى [أَنَّ] الْخَمْسَةَ الْأَوَاقِ هِيَ مِائَتَا دِرْهَمٍ. باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ پانچ اوقیہ چاندی دو سو درہم ہیں
حدیث نمبر: 2295
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَازِنِيُّ ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَالأَوَاقُ مِائَتَا دِرْهَمٍ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ وسق سے کم غلّے میں زکوٰۃ نہیں ہے اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ ہے اور ( پانچ ) اوقیہ دو سو درہم ہیں ۔ “