حدیث نمبر: 2267
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ الصَّدَقَةَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ فِي الْغَنَمِ : " فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ سَائِمَةً وَحَدَّهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ " ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے احکام لکھوائے تھے پھر اپنے حکام اور عمال کو بھیجنے سے پہلے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ۔ اور مکمّل حدیث بیان کی ۔ اور کہا کہ ” چرنے والی چالیس بکریوں میں ایک بکری زکوٰۃ ہے ، ایک سو بیس بکریاں ہونے تک یہی زکوٰۃ ہے ۔ “ پھر باقی حدیث بیان کی ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم / حدیث: 2267
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن لغيره