حدیث نمبر: 2266
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ ، لا يُفَرَّقُ إِبِلٌ مِنْ حِسَابِهَا ، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا ، وَمَنْ مَنَعَهَا ، فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا ، لا يَحِلُّ لآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ " ، قَالَ الصَّنْعَانِيُّ : مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ ، وَقَالَ بُنْدَارٌ : وَمَنْ أَبَى فَأَنَا آخِذُهَا وَشَطْرَ مَالِهِ ، وَقَالَ : لا يُفَرَّقُ إِبِلٌ مِنْ حِسَابِهَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” باہر چرنے والے اونٹوں میں ہر چالیس اونٹوں میں ایک دو سالہ اونٹنی زکوٰۃ ہے ۔ حساب سے اونٹ الگ نہ کیے جائیں ۔ جس شخص نے اجر و ثواب کی نیت سے زکوٰۃ ادا کی تو اسے اس کا اجر ملے گا اور جس شخص نے زکوٰۃ روک لی تو ہم اُس سے ( زبردستی ) وصول کرلیںگے اور اس کے آدھے اونٹ بھی ( بطور سزا ) لے لیںگے ۔ یہ ہمارے رب کے فرائض میں سے ایک فرض ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل کے لئے اس میں سے کچھ حلال نہیں ۔ “ صنعانی کہتے ہیں ہر چالیس میں ایک دو سالہ اونٹنی ہے ۔ اور جناب بندار کی روایت میں ہے ” اور جس شخص نے انکار کیا تو میں اس سے ( زبردستی ) زکوٰۃ وصول کروںگا اور آدھا مال بھی ( بطور جرمانہ ) لے لوںگا اور فرمایا : ” اونٹوں کو حساب سے الگ نہ کیا جائے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم / حدیث: 2266
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده حسن