حدیث نمبر: 2237
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجور کی ٹہنیوں اور پتّوں سے جھونپڑی بنائی گئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں اعتکاف کیا ۔ حتّیٰ کہ جب ایک رات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک باہر نکالا اور صحابہ کرام کو ( بلند آواز سے ) قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو آپ نے فرمایا : ” بیشک نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے تو تم میں کسی شخص کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا سرگوشیاں کررہا ہے ، کیا تم میں سے بعض لوگ دوسروں پر بلند آواز سے ( اُن کی قراءت و ذکر میں ) خلل ڈالتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے پر بلند آواز سے قراءت کرنے کو ناپسند کیا تھا اور اس سے روکنا چاہتے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن لغيره