حدیث نمبر: 2229
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ عُمَرَ ، كَانَ عَلَيْهِ نَذْرُ اعْتِكَافٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَهَبَ لَهُ جَارِيَةً مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ ، فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ النَّاسُ يُكَبِّرُونَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ سَبْيَ حُنَيْنٍ ، قَالَ : فَأَرْسَلُوا تِلْكَ الْجَارِيَةَ " . وَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ فِي خَبَرِ نَافِعٍ : عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا ، فَإِنْ ثَبَتَتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ فَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ تَقُولُ يَوْمًا بِلَيْلَتِهِ ، وَتَقُولُ : لَيْلَةٌ تُرِيدُ بِيَوْمِهَا ، وَقَدْ ثَبَتَتِ الْحُجَّةُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ذمہ جاہلیت میں مانی ہوئی ایک رات کا اعتکاف کرنے کی نذر تھی ۔ تو اُنہوں نے ( اس بارے میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اعتکاف کرنے کا حُکم دیا ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں حنین کے قیدیوں میں سے ایک لونڈی دی تھی ۔ پس اس دوران کہ وہ مسجد حرام میں اعتکاف کے لئے بیٹھے ہوئے تھے جب لوگ اللہ اکبر کہتے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوئے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ یہ کیا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدی آزاد کر دیئے ہیں ( اور لوگ خوشی سے نعرہ تکبیر بلند کر رہے ہیں ) سیدنا عمررضی اللہ عنہ کہا کہ تو وہ لونڈی بھی آزاد کردو ۔ حضرت نافع کی ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کے ایک راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیشک میں نے ایک دن اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی ۔ اگر یہ الفاظ ثابت ہوجائیں تو یہ اسی قسم سے ہوں گے جسے میں بیان کرچکا ہوں کہ عرب لوگ کبھی دن بول کر رات سمیت دن مراد لیتے ہیں اور کبھی رات بول کردن سمیت رات مراد لیتے ہیں اور اس مسئلے کی دلیل اللہ کی کتاب سے ثابت ہوچکی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2229
تخریج حدیث انظر الحديث السابق